اللہ تعالی سے بھلا کون جنگ کر سکتا ہے

فرانس پہلا ملک تھا جس نے حجاب پر پابندی لگائی تھی کہ کوئی عورت بھی پردہ نہیں کرے گی ۔برقعہ نہیں پہنے گی اور اب سال ہونے کو ہے کہ فرانس میں ماسک سے چہرہ نہ ڈھانپنے کی صورت 130 یورو جرمانہ طے ہے۔

صرف انسانوں کے ہی نہیں مجسموں کے بھی چہرے ڈھانپ لیا ہے،اللہ تعالی سے بھلا کون جنگ کر سکتا ہے۔اس نے تو پابندی ہٹائی تھی۔ لیکن شرم والی بات یہ ہے کسی بھی اسلامی ملک میں ریاست نے برقعہ یا پردہ سرکاری لباس قرار نہیں دیا ۔ماسک پر شور مچا رہی ہے ۔ اگر سرکار ایسا کرے تو کس کی ضرورت ہے کہ وہ منہ ڈھانپے بغیر باہر آئے۔ ۔عورت کی بے پردگی کی وجہ سے جس مقام پر تمام اسلامی ملک پہنچ چکے ہیں ۔یہ سب جانتے ہیں۔ دوسروں کے نقص نکالنا بڑی آسان بات ہے۔ اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیں۔ مدینے کی ریاست کا کہنا آسان ۔لیکن اللہ تعالی آپ لوگوں کو توفیق دے شریعت مصطفی کا نفاذ بھی کروائے۔ اللہ کی توفیق کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کرونا کی بیماری ساری دنیا میں شریعت مصطفی کے نفاذ کا سبب بن جائے۔ یہ بھی ممکن ہے اللہ تعالی نے مچھر سے بھی نمرود مروا دیا تھا ۔ آخر اللہ تعالی اپنے پیارے محبوب اول وآخری نبی سے بے انتہا پیار کرتا ہے یہ بھی ممکن ہے عدل فاروق سنتے آرہے ہیں۔اللہ کچھ ایسا کر دے جو کسی کے خواب میں بھی نہ ہو۔ اللہ سے ہر وقت اس سے رحم مانگنا چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں