وائٹ گولڈ نے، پاکستان سے منہ موڑ لیا

گذشتہ خریف میں میری زمینوں پر کپاس کاشت کی گئی اور ہمیں 29 ہزار روپے فی ایکڑ نقصان اٹھانا پڑا، اب مارچ-اپریل کے دوران میں کپاس نہیں اگاؤں گا۔

یہ الفاظ کسی اور کے نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہیں، جو انہوں نے دو روز قبل اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہے۔
شاہ محمود قریشی، جن کا شمار ملتان کے بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے، نے کہا کہ مارچ -اپریل میں شروع ہونے والے خریف سیزن کے لیے ان کی زمینوں پر دوسری فصلیں کاشت کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔
شاہ محمود قریشی پاکستان میں واحد زمیندار نہیں جو کپاس جیسی نقد آور فصل، جسے دنیا میں سفید سونا (وائٹ گولڈ) بھی کہا جاتا ہے، کی کاشت سے دور ہوتے جا رہے ہیں، بلکہ ہزاروں دوسرے زمیندار بھی اسی طرح کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔

پاکستان جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں 15 جنوری تک کپاس کی پیداوار 55 لاکھ گانٹھیں رہیں، جو گذشتہ 30 سالوں میں سب سے کم ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کپاس 22 لاکھ ہیکٹرز رقبے پر کاشت کی گئی ہے جو 1982 کے بعد سے کم ترین رقبہ ہے۔

کپاس کے زوال کی وجوہات کیا ہیں؟

ایک زمانہ تھا جب پاکستان کپاس میں خود کفیل تھا اور سالانہ 25 لاکھ گانٹھیں بیرون ملک بھیجا کرتا تھا، لیکن اب صورت حال اتنی خراب ہو گئی ہے کہ اس سال ٹیکسٹائل ملز اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے 70 سے 80 لاکھ گانٹھیں درآمد کریں گی، جس پر تقریباً تین ارب ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔
پاکستان میں کپاس کی فصل کی زبوں حالی کا اندازہ لگانے کے لیے پنجاب کے ضلع وہاڑی کی اکثر مثال دی جاتی ہے، جہاں دس سال قبل تک کپاس کی پیداوار 16 لاکھ گانٹھیں تھیں، لیکن گذشتہ چند سال سے وہاں سفید سونے کی ایک ڈالی بھی نہیں اگائی جا رہی۔
بھارت، جس کی 2005 تک کپاس کی پیداوار 14 ملین گانٹھیں سالانہ تھیں، اب ہر سال ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ کپاس پیدا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان ایک عشرہ قبل تک ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں کی پیداوار سے 55 لاکھ تک آ گیا ہے۔
ماہرین کپاس کے زوال کی سب سے بڑی وجہ حکومتی عدم توجہی اور غلط پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں، جس کے باعث کاشتکار مکئی، گندم اور چاول کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
گذشتہ دس سالوں کے دوران حکومتوں نے کپاس کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا جس کی وجہ سے آج یہ فصل پاکستان سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔
شاید آئندہ دس سال بعد ہم کہیں گے کہ پاکستان میں کبھی کپاس اگائی جاتی تھی۔‘
موجودہ اور ماضی قریب کے حکمرانوں نے ملک بھر میں گنے کو غیر ضروری طور پر اہمیت اور مراعات دیں، جو کپاس کے لیے مضر ثابت ہوئیں۔
گذشتہ اور موجودہ حکومتوں میں شامل اہم شخصیات شوگر ملوں کی مالک ہیں۔
پاکستان جنرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین ڈاکٹر جسومل ٹی لیمانی کا کہنا ہے کہ کپاس کے کسان کو سب سے بڑا مسئلہ معیاری بیج کی فراہمی ہے، جس کی عدم موجودگی میں روایتی بیج ہی استعمال ہو رہا ہے۔
’روایتی بیج کے استعمال سے فصل کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ کاشتکار کپاس اگانا چھوڑ دیتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کپاس کے بیج پر کوئی ریسرچ نہیں ہو رہی جبکہ اس کام کے لیے ادارے موجود ہیں۔
پاکستان میں زراعت کے تحقیقی ادارے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر یوسف ظفر نے تحقیقات نہ ہونے کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہو ئے کہا کہ ریسرچ کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ہی ملتان میں واقع کپاس کی تحقیقات کے بڑے ادارے سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین نے تنخواہوں اور مراعات کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ جب ملازمین کو تنخواہیں اور مراعات دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو ریسرچ کیسے ہو سکتی ہے؟ جس کے لیے بڑے فنڈز چاہیے ہوتے ہیں۔
گذشتہ حکومت نے سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ پر کپاس کی ریسرچ کے لیے تین ارب روپے کا انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی تھی، جو ابھی تک سرد خانے میں پڑی ہے۔
ٹیکسٹائل ملز مالکان کپاس کی ریسرچ کی غرض سے عائد 50 روپے فی گانٹھ کی مد میں ادائیگیوں سے گریز کرتے ہیں، جو ریسرچ کے راستے میں دوسری بڑی رکاوٹ ہے۔
ریسرچ پر توجہ دے کر کپاس کی فصل کو پاکستان میں واپس لایا جا سکتا ہے اور سرتاج عزیز رپورٹ پر عمل کر کے حکومت اس مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتی ہے۔
ڈاکٹر جسومل ٹی لیمانی کا کہنا تھا کہ سینٹرل کاٹن کمیٹی کو فعال بنا کر بھی کپاس کی صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے، اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاٹن کمیٹی کے تحت ہی کپاس کی ریسرچ، مارکیٹنگ اور دوسری فیلڈز میں کوششوں کو تیز اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام کا کہنا ہے کہ زراعت موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کپاس کی ریسرچ کے لیے انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کے سلسلے میں کام ہو رہا ہے جس کی تکمیل پر اس شعبے میں تحقیقات شروع ہو جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں