پارٹی کو ووٹ نہ دینے پر نااہل

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ پارٹی کو ووٹ نہ دینے پر نااہل نہیں تویہ تبدیلی صرف دکھاواہوگی،جسٹس عمر عطابندیال نے استفسارکیاکہ وزیراعظم کوکیسے علم ہواکہ 20 ایم پی ایز نے ووٹ بیچا؟، اٹارنی جنرل نے کہاکہ وزیراعظم نے کمیٹی بنائی تھی جس کی سفارش پر کارروائی کی، کارروائی پر وزیراعظم کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ بن گیا،سزا دینے سے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم ہونی چاہئے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ عدالت میں مقدمہ آئینی تشریح کاہے،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پارٹی کوچاہئے عوام کو بتائے کس رکن نے دھوکادیا۔
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری ہے،چیف جسٹس گلزار احمدکی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ سماعت کررہاہے،اٹارنی جنرل خالد جاوید نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن فری اینڈفیئر الیکشن منعقد کرانے کاپابندہے،اس مقصدکیلئے ایک قانون ہونالازمی ہے ،یہ عوام کا حق ہے انہیں علم ہومنتخب رکن کس کو ووٹ دے رہا ہے،سینیٹ میں ووٹر پہلے اپنی پارٹی نہیں عوام کو جواب دہ ہے ۔
اٹارنی جنرل نے کہاکہ صدر مملکت جانناچاہتے ہیں اوپن بیلٹ کیلئے آئینی ترمیم ضروری ہے یانہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پارٹی کیخلاف ووٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوسکتی تومسئلہ کیاہے؟،پہلے دن سے مجھے اس سوال کاجواب نہیں مل رہا،کوئی قانون منتخب رکن کو پارٹی امیدوار کوووٹ دینے کاپابند نہیں کرتا،ووٹ فروخت کرنے کے شواہد پرہی کوئی کارروائی ہو سکتی ہے،اوپن ووٹنگ میں ووٹ فروخت کرنے کے شواہد نہ ہوں توکچھ نہیں سکتا۔
اٹارنی جنرل نے کہااوپن بیلٹ کا مقصد سیاستدانوں کو گنداکرنا نہیں ہے،حکومت صرف انتخابی عمل کی شفافیت چاہتی ہے،کسی کی نااہلی چاہتے ہیں نہ ہی کسی منتخب رکن کیخلاف کارروائی کرنا،لوگوں کو معلوم ہوناچاہئے ان کے نمائندے نے کس کو ووٹ دیا،کسی رکن اسمبلی کی ناہلی کے حق میں ہیں ہیں ،ارکان اسمبلی کااحتساب بیلٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔
جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں پارٹی کیخلاف ووٹ دینے والوں کا احتساب پانچ سال بعدہو،اٹارنی جنرل نے عوام کوعلم ہونا چاہئے کس نے پارٹی کیخلاف ووٹ دیا،لوگ صرف امیدوار کو نہیں پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں ،ملک میں جمہوریت پہلے سے بہت بہتر ہو چکی ہے۔
جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پارٹی کو ووٹ نہ دینے پر نااہل نہیں تویہ تبدیلی صرف دکھاواہوگی،جسٹس عمر عطابندیال نے استفسارکیاکہ وزیراعظم کوکیسے علم ہواکہ 20 ایم پی ایز نے ووٹ بیچا؟، اٹارنی جنرل نے کہاکہ وزیراعظم نے کمیٹی بنائی تھی جس کی سفارش پر کارروائی کی، کارروائی پر وزیراعظم کیخلاف ہتک عزت کامقدمہ بن گیا،سزا دینے سے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم ہونی چاہئے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ عدالت میں مقدمہ آئینی تشریح کاہے،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پارٹی کوچاہئے عوام کو بتائے کس رکن نے دھوکادیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں