پنجاب پولیس میں تفتیش کا نظام بہتر بنانے کے لئے فنڈز چھوٹے افسران کو منتقل کرنے کا فیصلہ

لاہور : تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں سالانہ ہزاروں ایسے کیسز کا اندراج ہوتا ہے جن کی تفتیش کے لئے افسران واہلکاروں کو دوسرے اضلاع میں جاکر چھاپے مارنا پڑتے ہیں جس کے لئے گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں اور فنڈز درکار ہوتے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ افسروں کی جانب سے کیسز کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے تفتیشیوں کے حوالے سے مدعیان شکایات کرتے ہیں کہ ملزموں کو پکڑنے کے لئے پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی نے انہی شکایات کے پیش نظر تفتیش کے مخصوص فنڈز ایس پی انوسٹی گیشن کو فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے پہلے تفتیشی افسروں کو فنڈز فراہم کرنے کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن کو ضلعی افسر سے فنڈز کی درخواست کرنا پڑتی تھی۔ اعلیٰ افسر اپنی مرضی اور سست روی کی وجہ سے کئی کئی ماہ فائلیں دبائے رکھتے ہیں۔ کیسز میں بروقت فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ سے تفتیشی افسران تمام بوجھ مدعیان پر ڈال دیتے ہیں۔

شکایات کو مدنظررکھتے ہوئے اور سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے ایس پی انوسٹی گیشنز کے اکاؤنٹ کھلوا دیئے گئے ہیں۔ آئندہ تفتیش کے تمام فنڈز ایس پی انوسٹی گیشن کے اکاؤنٹ میں جائیں گے۔ لاہور کو ساڑھے 3 کروڑسمیت صوبہ بھر میں تفتیش کے لئے 25 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں