یا اللہ مجھے پتا نہیں تھا

پوری کائنات ایک سسٹم کے تحت چل رہی ہے چاند مجبور ہے زمین کے گرد اینٹی کلاک وائز گھومے، زمین مجبور ہے سورج کے گرد گھومے اور سورج مجبور ہے ملکی وے کہکشاں کے مرکز کے گرد گھومے
سورج چاہتا ہے زمین اس میں سما جائے، زمین چاہتی ہے چاند اس پر ا گرے، چاند چاہتا ہے اس کے گرد گھومنے والی چٹانیں اس پر گر جائیں مگر ان چیزوں کے گھومنے کی رفتار چاہتی ہے کہ وہ کائنات میں اکیلا گھومے کوئی پوچھنے والا نا ہو؎
اب یہ دفع کی قوت اور بڑے جسم کی گریویٹی اس قدر توازن میں ہیں کہ نا تو سورج بلیک ہول میں جا گرتا ہے نا ہی کہیں بھاگ سکتا ہے (اسی طرح سب)
ایٹم ہر چیز کا سب سے چھوٹا ٹکرا مانا جاتا ہے اس کے گرد الیکٹرونز گردش کرتے ہیں اور الیکٹرون چاہتے ہیں نیوکلس سے بھاگینا مگر نیوکلیس نے انہیں منفی مثبت چارج کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے اور نیوکلیس چاہتا ہے کہ نیوٹرانز اپنی جگہ چھوڑ کر مرکز میں ا جائیں
بھاگنے اور پکڑا جانے کی قوت اس قدر برابر ہے کہ نا تو نیوکلس اپنے الیکٹرون کو اندر گھسیٹ سکتا ہے اور نا ہی الیکٹرونز بھاگ سکتے ہیں
جنگل میں گیا تو دیکھا شیر چاہتا ہے وہ سارے ہرن کھا جائے مگر ہرن بھاگنا چاہتے ہیں
اب نا تو شیر سارے ہرن کھا پا رہا ہے اور نا ہی سارے ہرن بھاگ پا رہے ہیں، اگر سارے شیر کی گرفت سے بھاگ جائیں تو جنگل کا سارا سبزہ کھا جائیں اور پھر بھوک سے مر جائیں، ایسا عظیم توازن،
اب کوئی کہے اس متوازن نظام کا چلانے والا کوئی نہیں، اتنے بڑے سسٹم اور کائنات کے زرے (ایٹم) میں سب کچھ اٹو میٹکلی بن گیا تھا اس ادمی کو کارٹون لگا کر دیں 2 سال کے بچے کے ساتھ بیٹائیں شائد اس سے ہی کچھ سیکھ جائے
انسان اگر تھوڑی سی عقل استعمال کرے اللہ کے سگنیچرز اسے ہر جگہ نظر ا جائیں گے، اللہ کو نا ماننے والے کبھی تنہائی میں بیٹھیں اور سوچیں اس قدر متوازن نظام خود کیسے بن سکتا ہے
حق تو اللہ تعالیٰ واضح کر کے رہیں گے تاکہ قیامت کے دن کسی کے پاس بہانہ نہیں ہو “یا اللہ مجھے پتا نہیں تھا”

اپنا تبصرہ بھیجیں