ترکی اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ/ ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

Boycott


عالمی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے حالیہ بیان کے بعد اپنے شہریوں سے ’ ترک اشیا کے بائیکاٹ‘ کا مطالبہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے کہا تھا کہ کچھ خلیجی ممالک خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سعودی عرب کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ عجلان العجلان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’ہماری قیادت، ہمارے ملک اور شہریوں کے خلاف ترک حکومت کی مسلسل دشمنی کے ردعمل میں ہر سعودی تاجر اور صارف ہر چیز کا بائیکاٹ کریں۔'

انہوں نے کہا کہ یہ بائیکاٹ شعبہ درآمد، سرمایہ کاری یا سیاحت کی سطح پر بھی کیا جائے۔

ترک صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ ’یہ بات بھی فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ یہ ممالک کل موجود نہیں تھے اور شاید کل موجود نہیں ہوں گے، اس لیے ہم اللہ کے حکم سے اس خطے میں ہمیشہ اپنے پرچم کو بلند کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ترکی اور ریاض کے مابین تعلقات خاصے کشیدہ ہوگئے تھے۔

ترک صدر نے کہا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی حکومت کے ’اعلی عہدیداروں‘ سے آیا تھا۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ترکی نے جمال خاشقجی قتل کیس میں 6 سعودی ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔ملزمان میں سے کوئی بھی ترکی میں موجود نہیں اور ان کی غیر حاضری میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

حال ہی میں ترک صدر نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے فیصلے کی بھی مذمت کی تھی۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے اعلان کے بعد ترک صدر نے متنبہ کیا تھا کہ استنبول اس کے جواب میں خلیجی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرسکتا ہے۔ 

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی