آرمینیا کا الزام ہے کہ ترکی نے اس کے ملک کی فضائی حدود میں گھس کر اس کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرایا۔

fighter-jet

آرمینیا کی وزارت خارجہ کے مطابق سوویت دور کے بنے ہوئے طیارے 25-SU کا پائلٹ اس حادثے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ آرمینیا کے مطابق ترک F-16 طیارے نے آرمینیا کی فضائی حدود میں اس کے طیارے پر حملہ کیا تھا۔


ترکی نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ ہم آذربائجان کو ہر قسم کی مدد فراہم کریں گے۔


نگورنو قارہ باخ بین الاقوامی طور پر آذربائجان کا حصہ ہے لیکن 1994ء میں آرمینیا نے قارہ باخ پر اپنا قبضہ جمایا اور اب قارہ باخ پر حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے لوگوں کے پاس ہے۔


نگورنو قارہ باخ کی عیسائی انتظامیہ نے اتوار سے اب تک 84 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کے مارے جانے کا بھی بتایا ہے۔


جبکہ آذربائجان نے اب تک اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں نہیں بتایا ہے لیکن سات شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔


مگر اب یہ جنگ نگورنو قارہ باخ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ دوسرے علاقوں میں پھیل چکی ہے۔


پیر کو آرمینیا نے آذربائجان پر شیلنگ کی جس میں آذربائجان کے دو شہری شہید ہوئے۔ ایک روز پہلے اسی خاندان کے پانچ افراد شہید ہوئے تھے۔


منگل کو اس مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ایک ایمرجنسی اجلاس بھی ہوا ہے۔ کیونکہ 2016ء کے بعد اب اس جنگ میں تیزی آ گئی ہے۔

آذربائجان نے اپنے کچھ علاقوں میں مارشل لاء نافذ کر کے مزید فوج تعینات کر دی ہے۔


دفاعی اور جغرافیائی لحاظ سے ’قفقاز‘ خطے میں شروع ہونے والی اس جنگ میں دوسرے ممالک بھی براہ راست شامل ہو سکتے ہیں۔

ترکی نے کھل کر آذربائجان کی حمایت کی ہے جبکہ روس نے فوری فائر بندی پر زور دیا ہے۔ روس کی ایک فوجی بیس آرمینیا میں ہے۔


جھڑپیں شروع ہونے کے بعد آذربائجان کے صدر الہام الیف نے کہا تھا کہ وہ اس خطے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پراعتماد ہیں۔ 

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی