2030 تک پاکستان میں موت کی تیسری بڑی وجہ

شیخوپورہ: روڈ سیفٹی پر کام کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے کیوں کہ اگر حادثات کی موجودہ شرح برقرار رہی تو 2030 تک پاکستان میں یہ موت کی تیسری بڑی وجہ بن سکتی ہے-قومی شاہرات پر چلنے والی ٹریفک میں موٹرسائیکل سوار سب سے ذیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں اور سب سے ذیادہ حادثات کا شکار ہوتے ہیں ان خیالات کا اظہار کمانڈنٹ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس ٹریننگ کالج ڈی آئی جی محبوب اسلم نے مقامی نجی کمپنی کے تعاون سے ہیلمٹ،عقبی شیشوں،فرنٹ اینڈ بیک لائیٹس اور سائیڈ انڈیکیٹرز کی افادیت سے متعلق موٹروے ایم ٹو سے ملحقہ علاقے میں روڈ سیفٹی مہم کے انعقاد پر کیا۔مقامی کمپنی کے مالک عبدالحمید رانجھا،مقامی سیاست دانوں،موٹروے پولیس کے آفسران اور علاقائی معززین کی کشیر تعداد اس موقع پر موجود تھے۔سیفٹی ہیلمٹ کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے ڈی آئی جی محبوب اسلم نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں لوگ ٹریفک حادثات میں جان گنوا دیتے ہیں اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق عالمی سطح پر ہونے والے حادثات کا شکار ہونے والوں میں موٹرسائیکل سوار اٹھائیس فیصد ہیں جو کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔موٹرسائیکل سواروں کے حادثات کی سب سے بڑی وجہ موٹرسائیکلوں کی لائٹس کا خراب ہونا،بیک ویو شیشوں کو استمعال نہ کرنا ہے جبکہ ہیڈ اور بیک لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے رات کے وقت موٹرسائیکل سوار نمایاں نہیں ہوتے اور موٹرسائیکل پر سائیڈ شیشے نہ ہونے کی وجہ سے سوار پیچھے آنے والی ٹریفک کے بہاؤ کو دیکھ نہیں پاتا-موٹرسائیکل کے حادثات میں سر کی چوٹ موت،مستقل معذوری اور شدید زخم کا باعث بنتی ہے۔سر کی چوٹ کو معیاری ہیلمٹ کے استمعال،ٹریفک قوانین کی پابندی اور روڈ سیفٹی کے اصولوں پر کاربند ہو کر بچایا جاسکتا ہے۔مہم کے دوران پر موٹرسائیکل سواروں میں مفت ہیلمٹ تقسیم کئے گئے،سائیڈ انڈیکیٹر اور ٹیل لایٹس لگائی گئی اور موٹرسائیکلوں پر عقبی شیشے نصب کئے گئے۔موٹرسائیکل سواروں کو سفر کے دوران احتیاطی تدابیر کے متعلق آگاہ بھی کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں